محترم قارئین اگر آپ نحو، صرف اور ترکیب کے متعلق مستند مواد ہماری ویب سائٹ لسان العرب پر اپلوڈ کرانا چاہتے ہیں۔تو اسے نیچے دئے گئے واٹس ایپ بٹن پر کلک کرکے ہمیں ارسال فرمائیں آپکے نام کے ساتھ اسے اپلوڈ کر دیا جائے گا

طوطا طوطی اور الو

الطُّوطَىٰ وَالطُّوطِيُّ وَالْبُومُ

الطُّوطَىٰ وَالطُّوطِيُّ وَالْبُومُ كَانَ فِي قَدِيمِ الزَّمَانِ، كَانَ الطُّوطَىٰ وَالطُّوطِيُّ يَسِيرَانِ فِي صَحْرَاءَ قَاحِلَةٍ. فَقَالَتِ الطُّوطِيُّ لِلطُّوطَىٰ: مَا أَكْثَرَ هٰذِهِ الْوِحْدَةَ وَالْخَرَابَ!

فَقَالَ الطُّوطَىٰ: لَعَلَّ بُومًا قَدْ مَرَّ مِنْ هُنَا. فِي هٰذَا الْوَقْتِ، كَانَ هُنَاكَ بُومٌ يَطِيرُ فِي الْجِوَارِ، فَسَمِعَ كَلَامَهُمَا وَقَالَ لَهُمَا: يَا ضَيْفَيَّ الْكَرِيمَيْنِ، تَعَالَيَا وَكُونَا ضُيُوفِي اللَّيْلَةَ، وَتَنَاوَلَا الطَّعَامَ مَعِي.

قَبِلَ الطُّوطَىٰ وَالطُّوطِيُّ الدَّعْوَةَ، وَبَعْدَ الْعَشَاءِ، حِينَ أَرَادَا الْمُغَادَرَةَ، أَمْسَكَ الْبُومُ بِيَدِ الطُّوطِيِّ وَقَالَ: إِلَى أَيْنَ تَذْهَبِينَ؟ فَقَالَتِ الطُّوطِيُّ مُتَعَجِّبَةً: مَعَ زَوْجِي، طَبْعًا!

فَضَحِكَ الْبُومُ وَقَالَ: لٰكِنَّكِ زَوْجَتِي! فَاشْتَدَّ النِّزَاعُ بَيْنَ الطُّوطَىٰ وَالْبُومِ، حَتَّىٰ أَقْتَرَحَ الْبُومُ: لِنَذْهَبْ إِلَى الْقَاضِي وَنَحْكُمَ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ.

فَذَهَبُوا جَمِيعًا إِلَى الْقَاضِي، وَبَعْدَ أَنْ سَمِعَ الْقَضِيَّةَ، حَكَمَ بِأَنَّ الطُّوطِيَّ زَوْجَةُ الْبُومِ! فَخَرَجَ الطُّوطَىٰ يَبْكِي، فَنَادَاهُ الْبُومُ وَقَالَ: إِلَىٰ أَيْنَ تَذْهَبُ وَحْدَكَ؟ خُذْ زَوْجَتَكَ مَعَكَ!

فَقَالَ الطُّوطَىٰ بِحُزْنٍ: لَيْسَتْ زَوْجَتِي بَعْدَ الْآنِ، بَلْ هِيَ زَوْجَتُكَ بِحُكْمِ الْقَاضِي! فَتَبَسَّمَ الْبُومُ وَقَالَ بِلِينٍ: يَا صَدِيقِي، هِيَ زَوْجَتُكَ، وَلَيْسَتْ لِي! أَرَدْتُ فَقَطْ أَنْ أُعَلِّمَكَ أَنَّ الْبِلَادَ لَا تَخْرَبُ بِسَبَبِ الْبُومِ، وَلٰكِنَّهَا تَخْرَبُ حِينَ يُزَالُ مِنْهَا الْعَدْلُ.

الْعِبْرَةُ مِنَ الْقِصَّةِ: إِنَّ الْعَدْلَ أَسَاسُ بِنَاءِ الْمُجْتَمَعَاتِ، فَإِذَا فُقِدَ الْعَدْلُ وَسَادَ الظُّلْمُ، خَرِبَتِ الْأَرْضُ وَزَالَتِ الْحَضَارَاتُ، وَهَذَا هُوَ سَبَبُ دَمَارِ الْمَدَائِنِ وَزَوَالِهَا.

مذکورہ عربی مضمون(طوطا، طوطی اور الو ) کا اردو ترجمہ:

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ھوا ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے کہا: کس قدر ویران گاؤں ھے؟

طوطے نے کہا: لگتا ھے یہاں کسی الو کا گزر ھوا ھے جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے عین اسی وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ھو کر بولا: تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ھو آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ

میرے ساتھ کھانا کھاؤ اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نا کر سکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلی کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ھونے کی اجازت چاہی تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: تم کہاں جا رھی ھو؟

طوطی پریشان ھو کر بولی: یہ کوئی پوچھنے کی بات ھے؟ میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رھی ھوں الو یہ سن کر ہنسا اور کہا یہ تم کیا کہہ رھی ھو جبکہ تم تو میری بیوی ھو

اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو اُلو نے طوطے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا: ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں

قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ھو گا اُلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ھوئے قاضی نے دلائل کی روشنی میں اُلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کر دی

طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اُلو نے اسے آواز دی: بھائی اکیلئے کہاں جاتے ھو؟ اپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ!

طوطے نے حیرانی سے اُلو کی طرف دیکھا اور بولا: اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو؟ یہ اب میری بیوی کہاں ھے؟ عدالت نے تو اسےتمہاری بیوی قرار دے دیا ھے

اُلو طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا: نہیں دوست یہ طوطی میری نہیں بلکہ تمہاری ہی بیوی ھے میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ھے اس حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی بستی یا معاشرے کی ویرانی اور تباہی کا سبب صرف ظاہری طور پر نظر آنے والے عناصر (جیسے اُلو) نہیں ہوتے، بلکہ اصل وجہ وہاں کا عدالتی اور انصاف کا نظام ہوتا ہے۔ جب کسی جگہ سے انصاف ختم ہو جاتا ہے اور ناانصافی عام ہو جاتی ہے، تو وہ جگہ خودبخود ویران ہونے لگتی ہے۔

کہانی سے نصیحت: یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا دار و مدار عدل و انصاف پر ہے۔ اگر عدلیہ اور حکومتی نظام انصاف پر مبنی ہو تو لوگ سکون اور اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں، لیکن اگر انصاف کا جنازہ نکل جائے تو وہ معاشرہ ویران ہو جاتا ہے، چاہے بظاہر وہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو۔

1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی
WhatsApp Channel DP
عربی ادب میں مہارت کا ذریعہ واٹس ایپ چینل ابھی جوائن کریں